21 جنوری 2014 - 20:30
شام: دہشت گرد مفتی ہلاک/ شیخ البوطی: ہتھیار اٹھانے والےواپس آرہےہیں

حلب میں نام نہاد "آزاد آرمی" کا مفتی ابو معاذ المصری سرکاری افواج کے ساتھ جھڑپوں میں ہلاک ہوگیا ہے۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ـ جنیوا 2 کانفرنس شروع ہوچکی ہے، سرکاری فوجوں نے مختلف علاقوں میں مختلف دہشت گرد ٹولوں کے ساتھ جنگ بندی کا آغاز کیا ہے تاکہ جہاں تک ممکن ہو قتل و غارت اور خونریزي کا تدارک کیا جاسکے۔ دریں اثناء بہت سے علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف سرکاری افواج کی کاروائیاں جاری ہیں؛ حلب میں النیرب ہوائی اڈے کے قریب بھی جھڑپیں ہوئی ہیں جبکہ العزیزہ کے علاقے میں سرکاری فوجی دستے دہشت گردوں کے ساتھ جھڑپوں میں مصروف ہیں۔ ادھر "علمائے بلاد الشام ایسوسی ایشن" کے سربراہ "محمد توفیق البوطی نے العالم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا: اپنے بھائیوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں میں سے بہت سے افراد راہ راست پر آئے ہیں اور یہ شام کے روشن مستقبل کے لئے اچھی ضمانت ہے۔ دوسری جانب سے سرکاری افواج نے النیرب ہوائی اڈے کے مغرب اور العزیزہ کے اندر قابل قدر پیش قدمی کی ہے اور دہشت گرد ٹولوں کے سرغنوں کے ٹھکانے بھاری توپخانے کا نشانہ بنا دیئے ہیں۔ ان حملوں میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں نام نہاد دہشت گرد تنظیم "فری سیرین آرمی" کے فتوی بورڈ کا سربراہ ابو معاذ المصری بھی شامل ہے۔ شام کے عسکری امور کے ماہر "ترکی صقر" نے العالم کو بتایا: حلب جیل، المرجہ روٹ، شیخ لطفی اور العزیزہ میں حاصل ہونے والی کامیابیاں دہشت گرد تنظيموں کے خلاف سرکاری فوج کی حکمت عملی کا حصہ ہیں اور جنیوا 2 کانفرنس سے ان پر کوئی اثر نہيں پڑے گا۔ ادھر حلب کے شمالی نواحی علاقے "اعزاز" میں بھی دہشت گرد ٹولوں کے درمیان بھی شدید ترین جھڑپیں ہوئی ہیں اور فری آرمی نامی ٹولے کا دعوی ہے کہ داعش کے دہشت گرد بھاگ رہے ہیں اور فری سیرین آرمی پیشقدمی کررہی ہے تاہم داعش نے دعوی کیا ہے کہ اس نے الخفسہ نامی شہر کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ دہشت گرد ٹولوں کو ہمآہنگ کرنے والے دفتر نے ایک بیان جاری کرکے کہا ہے کہ داعش اس دفتر کے خلاف جارحانہ اقدامات کی مرتکب ہوچکی ہے۔ اس دفتر نے ترکی اور قطر کا شکریہ ادا کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ دو ملک جبہۃالاسلامیہ نامی ٹولے کی حمایت میں اہم کردار ادا کررہے ہیں!۔ ادھر یہ خبریں بھی کچھ مہینوں سے شائع ہوتی رہی ہیں کہ ترکی اور قطر اپنی پرانی شام دشمن پالیسی چھوڑ کر حکومت شام کے ساتھ رابطہ بحال کرنے کی کوشش کررہے ہیں کیونکہ وہ سعودی عرب کے زیر سرپرستی ٹولوں کی کارکردگی سے خوش نہيں ہیں اور انہیں معلو ہوچکا ہے کہ سعودی عرب ان کے مفادات کو کبھی بھی خاطر میں نہ لائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭

تفصیلات کے لئے رجوع کریں:

شام: ایک تکفیری کے اعترافات/ دہشت گرد مفتی ہلاک/ حلب ـ دمشق فضائی روٹ بحال